ہوم /چوپائے جانوروں کی زکوٰۃ

چوپائے جانوروں کی زکوٰة
جانوروں کی تعریف
چوپائے/جانور
اونٹ،گائے، بیل اور بکریاں
جانوروں کی زكات کا حکم
جانوروں پہ زكات واجب ہے کیونکہ رسولؐ اللہ فرماتے ہیں ” ہر وہ آدمی جو اونٹ، گائے اور بکریوں کے ریوڑ کا مالک ہو اور ان کی زكات ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن یہ تمام جانور دنیا کے مقابلے میں بہت بڑے اور موٹے تازے ہو کر آئینگے اور اسکو سینگوں کے ساتھ گھسیٹیں گے اور سر سے کھروں کے ساتھ اوندھنا شروع کریں گے یہاں تک ہ آخر تک پہنچ جائیں گے اور پھر واپس لوٹینگے اور یہ عمل جاری رہے گا یہاں تک کہ انسانوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔ “[ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]
جانوروں کی زكات واجب ہونیکی شرائط
1۔ پہلی شرط یہ ہے کہ ان پر مالک کی ملکیت میں ہوتے ہوئے سال گزر جائے کیونکہ رسولؐ اللہ فرماتے ہیں ” مال میں اس وقت تک زكات واجب نہیں ہوتی جب تک اس پر سال نہ گذر جائے۔ “[اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے]
2۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ جانور چرنے والے ہوں کیونکہ رسولؐ اللہ فرماتے ہیں کہ ” چرنے والے ہر 40 اونٹوں میں ایک دو سالہ اونٹنی ہے “[ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے]
والابل سائمۃ: ان اونٹوں کو کہتے ہیں کہ جن کی غذا زمین پر اگنے والی گھاس ہوتی ہے اور انکا گذارہ چرنے پر ہوتا ہے۔
والکلا المباح: اس گھاس کو کہتے ہیں جو انسان کے اگائے بغیر اللہ کے حکم سے اگ آتا ہے۔ اور وہ اونٹ جن کی غذا کھیتی ہو یعنی انسان کی بھیجی ہوئی گھاس ہو اسکو سائمہ نہیں کہتے اور نہ ہی ان پر زكات ہے۔
3۔ تیسری شرط یہ ہے کہ ان سے دودھ اور نسل کے اعتبار سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہو اور کام نہ لیا جاتا ہو۔ کام کرنے والے اونٹ یعنی وہ اونٹ جن کو کھیتی باڑی، زمین کو سیراب کرنے، سامان ایک جگہ سےدوسری جگہ منتقل کرنے اور بوجھ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہو، ان پہ زكات نہیں ہے۔
کیونکہ یہ اونٹ کپڑوں کی طرح انسان کی ضروریات اصلیہ میں داخل ہو جاتے ہیں اور وہ اونٹ جو کرایہ پر دیے جاتے ہوں ان پر بھی زكات نہیں ہے۔ البتہ ان سے حاصل ہونے والا کرایہ اگر نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گذر جائے تو اس پرزكات ہے۔
4۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ جانور نصاب شرعی کو پہنچ جائیں۔
جانوروں کی زكات کا شرعی نصاب
پہلے: اونٹوں کا نصاب اور ہر نصاب کی جو مقدار واجب ہے اسکا بیان۔
حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضي الله عنه نے انکے لیے لکھا ” یہ وہ فرض زكات ہے جو رسولؐ اللہ نے مسلمانوں پر فرض کی ہے اور جس کا اللہ اور اسکے رسولؐ نے حکم دیاہے۔ 24 اونٹ اور اس سے کم میں بکریاں ہیں، ہر پانچ میں ایک بکری ہے، جب انکی تعداد 25 تک پہنچ جائے تو 25 سے 35 تک میں ایک سالہ اونٹنی ہے اور 36 سے 45 تک ایک دو سالہ اونٹنی ہے، 46 سے 60 تک ایک 3 سالہ اونٹنی ہے، 61 سے 75 تک ایک چار سالہ اونٹنی ہے اور جس آدمی کے پاس 4 اونٹ ہوں تو اس پر زكات نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ اپنی مرضی سے دینا چاہے تو دے سکتا ہے اور جب اونٹوں کی تعداد پانچ تک پہنچ جائے تو زكات میں ایک بکری واجب ہے “[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]
اونٹوں کا نصاب اور انکی زكات
اونٹوں کی تعداداور اس میں زكات کی مقدار5: 9تک میں ایک بکری ہے10: 14تک میں دو بکریاں ہیں۔15: 19تک میں تین بکریاں ہیں۔20: 24تک میں چار بکریاں ہیں۔25: 35تک میں ایک سالہ انٹنی ہے۔36: 45تک میں ایک دو سالہ اونٹنی ہے۔46: 60تک میں ایک تین سالہ اونٹنی ہے۔61: 75تک میں ایک چار سالہ اونٹنی ہے۔76: 90تک میں دو دو سالہ اونٹنیاں ہیں۔91: 120تک میں دو تین سالہ اونٹنیاں ہیں۔120:….بعد ہر 40 میں ایک دو سالہ اونٹنی ہے اور ر پچاس میں ایک تین سالہ اونٹنی ہے۔
دوسرا: گائے بیل کا نصاب اور ہر نصاب میں جو حصہ واجب ہے اسکا بیان
حضرت معاذ بن جبل رضي الله عنه سے روایت ہے فرماتے ہیں” کہ رسولؐ اللہ نے مجھے یمن کی طرف بھیجا اور حکم دیا کہ ان سے ہر 30 گائے،بیل کی زكات میں ایک، ایک سالہ گائے یا بیل وصول کروں۔ اور ہر چالیس میں ایک دو سالہ گائے یا بیل وصول کروں “[ یہ حدیث امام ابوداؤد کی روایت ہے]
گائے کا نصاب اور انکی زكات
گائے کی تعداداور اس میں زكات کی مقدار30: 39میں ایک، ایک سالہ گائے واجب ہے۔40: 59میں ایک، دو سالہ گائےیا بیل واجب ہے۔60: 69میں دو ایک سالہ گائے یا بیل واجب ہے۔70: 79میں ایک، ایک سالہ اور ایک دو سالہ گائے یابیل واجب ہے۔
تیسرا: بکر، بھیڑ، دنبے کا نصاب اور ہر نصاب میں زكات واجب ہونے کی مقدار کا بیان
حضرت انس رضي الله عنه کی پیچھے گذری ہوئی حدیث میں آیا ہے ” چرنے والی بکریوں کی تعدادجب چالیس کو پہنچ جائے تو 40 سے 120 تک میں ایک بکری واجب ہے اور 120 سے 200 تک دو بکریاں ہیں اور 201 سے300 میں 3 بکریاں ہیں۔ تین سو سے زیادہ میں ہر 100 پر ایک ایک بکری ہے اور اگر ان چرنے والی بکریوں کی تعداد 40 سے کم ہو تو ان میں کچھ بھی نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ اپنی طرف سے دینا چاہے تو دے سکتا ہے “[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]
بکری، بھیڑ، دنبہ کا نصاب اور انکی زكات۔
بکریوں بھیڑوں کی تعداداور اس میں زكات کی مقدار40: 120میں ایک بکری واجب ہے۔121: 200تک میں دو بکریاں واجب ہیں۔201: 300تک میں تین بکریاں واجب ہیں۔
پھر ہر100 کے اضافے پر ایک بکری واجب ہے۔
واجب زكات کی صفت اور اسکی خصوصیّت
زكات میں دیے جانیوالے جانور میں ضروری ہے کہ وہ درمیانے مال میں سے ہو نہ بہت اچھا ہو نہ ہی بہت کمزور اور بے کار ہو۔ زكات لینے والے اور دینے والے پر جانور کے واجب عمر کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کیونکہ جب مقررہ عمر سے چھوٹی عمر والا لیا جائے گا تو اس میں غریبوں اور فقیروں کا نقصان ہے اور زیادہ عمر والا لینے پر مالداروں پر ظلم ہے۔
اور نہ بیمار جانور لیا جائے گا اور نہ ہی عیب دار اور زیادہ عمر والا یعنی بوڑھا لیا جائے گا۔ کیونکہ اس قسم کے جانور فقیروں کو فائدہ نہیں پہنچاتے اور اس کے مقابلے میں بہت زیادہ موٹا تازہ جانور یعنی کھانے کے لیے بالکل تیار جانور ۔
او اسی طرح بچے کی پرورش کرنے والا جانور اور حاملہ جانور اور نہ ہی اموال اور جانوروں میں سب سے بہترین جانور لیے جائینگے کیونکہ اس میں مالدار کا نقصان ہے اور رسولؐ اللہ بھی فرماتے ہیں ” آپ ان کے اموال میں سے بہترین مال سے دور رہو ” [ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]
جانوروں کا آپس میں اختلاط یعنی انکا آپس میں مل جانا۔
اختلاط کی دو قسمیں ہیں۔
پہلی قسم: اعیان کا اختلاط ہے
اور وہ یہ ہے کہ مال ملکیت کے اعتبار سے دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو اور دونوں میں ایک کا حصہ دوسرے سے جُدا نہ ہو اور اعیان میں اختلاط یا تو وراثت کی وجہ سے آتا ہے یا پھر خریداری کی وجہ سے آتا ہے
دوسری قسم: اوصاف کا اختلاط ہے۔
اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک کا حصہ دوسرے سے جُدا ہوصرف قُرب و جوار انکو جمع کرتا ہو۔
اور یہ خلطہ دونوں مختلط مالوں کو ایک بنا دیتا ہے جب دونوں کے جمع ہونے سے نصاب پورا ہو جاتا ہو اور یہ کہ دونوں ملنے والے زكات کے وجوب کی اہلیّت بھی رکھتے ہوں۔ اور اگر دونوں میں سے ایک کافر ہو تو پھر خلطہ ٹھیک نہیں ہے اور نہ ہی اسکا کوئی اثر ہے۔
اور یہ کہ دونوں مال چراگاہ، پناہ گاہ، آنے جانے، دودھ دوہنے کے برتن اور جگہ اور نر جانور کے اعتبار سے ایک ہو تو اسکو خلطہ کہیں گے اور اسکی وجہ سے دو مال ایک ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ رسولؐ اللہ فرماتے ہیں ” زكات کے خوف سے جُدا مال کو ملانا اور ملے ہوئے مال کو جُدا نہیں کرنا چاہیے ” [ اس حدیث کو ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے]

جانوروں کے زخم

جانور کا زخم چاہے چوٹ کا ہو یا کوٸی بیکٹیریل ہو اکثرہم دواٸی استعمال کرتے ہیں اور مختلف قسم کی ٹیوب اور ملم وغیرہ استعمال کرتے ہیں لیکن جانور کا زخم ٹھیک نہی ہوتا ۔یہ شکایت اکثر لوگ کرتے ہیں ۔
اس کیلیے ایک اسان سا نسخہ ہے ۔کاربالک ایسڈ ایک حصہ اور تیل سرسوں تین حصہ دونوں کو اچھی طرح مکس کر لیں۔پھر زخم والی جگہ لگاٸیں ان شاء اللہ تین دن میں ہی فرق نظر اے گا ۔لیکن زخم کو صاف کر کے لگاٸیں ۔
یہ دوا زخم کیلیے ہے ۔اندرونی چوٹ کیلیے نہی

دودھ والے جانور کی مکمل تیاری

سمجھدار فارمر ہمیشہ گھر کی نسل تیار کرتے ہیں اور ان جانوروں سے ہی اچھادودھ لیا جاسکتا ۔اسمیں اچھی نسل جن کی دودھ کی پیداوار اچھی ہو وہ نسل رکھیں ۔جو فارمر ابتدا میں یہ کام شروع کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی مقامی نسل کا انتخاب کریں ابتدا میں ولاٸیتی نسل پر نا جاٸیں ۔کیونکہ ہماری مقامی نسل قوت مدافیت زیادہ رکھتی ہے ۔اسلیے نقصان کاخطرہ کم ہوتا ہے ۔
بھینس میں ہماری مقامی نسل میں ۔نیلی۔ نیلی راوی۔مینی نیلی۔بھوری نیلی ۔یا نیلی کنڈل ہیں ۔یہ نسلیں اچھا دودھ دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔
گاۓ میں ہمارے پاس ساہیوال نسل ہے جو کم چارہ کھا کر اچھا دودھ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اور پھر چولستانی بھی اچھا دودھ دیتی ہے ۔ابتدا میں ولاٸیتی گاۓ میں صرف جرسی نسل رکھیں ۔اور تین سال بعد اپ فریزین کی طرف جاٸیں ۔
نسل کے بعد اپ اسکی دودھ کیلیے تیار کریں ۔
دودھ کیلیے تیاری کے چار مراحل ہیں
1 پہلے چھ ماہ کی مادہ جانور
جب 15 دن کی مادہ ہو تو اسکو دودھ کے ساتھ چوکر میز گلوٹن اور مکٸی کا اٹا ۔ان تینوں کو مکس کر کے دوپہر کے وقت چٹانا شروع کریں ۔جب یہ کھانا شروع کر دے تو اسکے اگے برتن میں رکھیں تھوڑا تھوڑا رکھیں ۔جب مادہ 45 دن کی ہو جاۓ تو اسکو ادھ کلو یہ والا ونڈا کھانا چاہیے ساتھ میں بریک چارہ اور توڑی مکس کر دیں ۔60 سے 70 دن میں اسکو ایک کلو یہ ونڈا ساتھ چارہ توڑی مکس کھانا چاہیے ۔اپکا جانور ایک کلو وزن روز کرنا شروع کر دے گا ۔70 دن کے بعد ونڈہ کا فامولہ یہ کر دیں
کھل بنولہ 30 کلو۔مکٸی15 کلو ۔چوکر 15 کلو ۔میزگلوٹن 15 کلو۔راٸیس پالش 10 کلو۔شیرہ 10کلو ۔گندم دلیہ 5 کلو۔ نمک کلو۔بجھا چونا کلو ۔منرل مکسچر کلو ۔
ان سب کو بریک پیس لیں
چارہ اور یوریا توڑی کے ساتھ ایک کلو ونڈہ چھ ماہ تک دیں ۔
2 مرحلہ نمبر دو مادہ کا سات ماہ سے 16 ماہ کا دورانیہ ہے۔ اسمیں اپ مادہ کو دو کلو ونڈہ چارہ اور یوریا توڑی کے ساتھ مکس کر کے دیں اور پانی ہر وقت مادہ کا کومیسر ہو ۔ اور اس پانی میں 100 ایم ایل چونے کا پانی مکس کریں ۔11 سے 12 ماہ بعد ان مادہ کو نر کے ساتھ نا رکھیں ۔کیونکہ انرجی کی وجہ اور نر کاساتھ ہونے کی وجہ سے مادہ بعض اوقات جلدی بھی ہیٹ میں اجاتی ہے ۔15 ماہ بعد مادہ کو نر کے ساتھ رکھیں اگر 17 ماہ تک ہیٹ میں نہی اتی تو انجیکشن کے زریعے ہیٹ میں لاٸیں ۔اور گھبن کرواٸیں ۔
3 یہ مرحلہ ہے گھبن ہونے سے سونے تک کا اسمیں بھی دو کلو ونڈا چارہ۔ساٸلیج۔یوریا توڑی دیں ۔جب مادہ کو سونے میں سو دن باقی ہوں تو ونڈہ تین کلو کر دیں اور اسی ونڈہ میں ایک کلو کیلشیم پٶڈر اور ایک کلو باٸی پاس فیٹ شامل کر دیں ۔اور روز دس گرام ویٹامن H
Vitamin H for cattle
روٹی پر لگا کر دیں اس سے مادہ کاحیوانہ اچھا گول اور بڑا بن جاۓ گا اور دودھ کی وینیں
Milking line
کھل جاٸیں گی ۔ویٹامن H صرف پہلن مادہ ہی کو دینی ہے ۔
جانور سونے کے بعد احتیاطی تدابیر
فارمر بھاٸی جانور کے بچہ جنم دینے کو پنجابی میں سُونا کہتے ہیں ۔
جب جانور بچہ دیتا ہے تو اسکے ساے پٹھے (mussalse) ایک بار گھینچ جاتے ہیں ۔جانور درد سے چور چور ہوتا ہے اور زیادہ طر بخار بھی ہو جاتا ہے ۔اسلیے جانور کو فورا طاقت کی ضرورت ہوتی ۔اسمیں ایک دیسی طریقہ علاج ہے جس میں ہم علاج بل غزا کرتے ہیں ۔سونے کے بعد تیس منٹ سے ایک گھنٹہ بعد کاڑہ دیں تاکہ جانور کو طاقت ملے زیر مکمل پھینک دے سوجن ختم ہو ۔اگر بخار ہے تو وہ بھی ختم ہو جاۓ اور جانور دودھ کیلیے تیار ہو
سونے بعد کے کاڑہ کے اجزا یہ ہیں۔
گڑ 500گرام ۔زیرہ سو گرام۔بڑی الاٸچی 25 دانے۔السی سو گرام ۔پینا ڈول دو گولیاں ۔
یہ اجزا ہر گھر میں موجود ہوتے ہیں ۔اسکا کاڑہ بنا کر پلا دیں ۔
سونے کے تین دن بعد جانور نے میلا (گندا خون)پھینکنا شروع کرنا ہوتا ہے یہ میلا جتنا جلدی جانور کے اندر سے نکل جاۓ گا جانور دودھ زیادہ اتارے گا ۔
میلا پھینکنے کے اجزا یہ ہیں
زیرہ 500گرام یعنی ادھ کلو ۔اجواٸن ادھ کلو ۔میتھے ادھ کلو ۔سنڈھ ادھ کلو۔ السی ادھ کلو ۔ہالوں ادھ کلو اگر مل جاے
ان سب چیزوں کو پیس کر اسکی پانچ خوراک برابر بنانی ہیں ۔
سونے کے تیسرے دن ادھ کلو گڑ میں یہ پیسے ہوے اجزا کی ایک خوراک کو ملاکر کھلا دیں پھر تین دن بعد دیتے جاٸیں ۔اسطرح 18 دن میں عمل مکمل ہو جاۓ گا ۔ ان شاء اللہ جانور دودھ فل اتار لے گا ۔
اسکے بعد ہم دودھ بڑھانے والا نسخہ دیں گے تاکہ جانور دودھ کی پیک پراجاۓ ۔
دودھ بڑھانےکےاجزا ۔
گل قند ادھ کلو چینی ایک کلو ۔زیرہ پاٶ ۔ہالوں پاٶ
اسکی بھی پانچ برابر خوراک بنالینی ہیں تین دن کے وقفے سے دینی ہے ۔
جانور کو ونڈہ اسکی دودھ کی مقدار کے مطابق دیتے جاٸیں یعنی تین کلو پر ایک کلو ونڈہ۔چارہ۔ ساٸلیج۔اور یوریا توڑی دیں مناسب مقدار میں ۔ ان شاء اللہ جانوراچھا دودھ دے گا
گائے بھینس کو بچہ دینے کے 2 ھفتہ بعد
احتیاطی طور پر delmazine ٹیکہ لگاہیں تاکہ یہ بر وقت ھیٹ میں آ سکے ۔
یہ نسخہ پہلن بچھڑی یا چھوٹی کیلیے نہی ہے۔
اگر اپ ان خطوط پر اپنے دودھ والے جانور پالیں گے تو کوٸی وجہ نہی کہ اپ 20 کلو دودھ نا حاصل کر سکیں ۔
جانور کسان کا زیور ہے اسکی حفاظت کریں
خوشحال کسان مظبوط پاکستان۔

Laptop repairing services at your doorstep

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Donec aliquet fringilla metus vitae tincidunt. Nullam porttitor porta ex, quis fringilla elit viverra vel. Pellentesque vitae orci ut mi tincidunt varius. Praesent sed leo tincidunt lacus porttitor laoreet. Proin molestie erat a vestibulum lobortis. Nullam tincidunt elit sem, non fermentum nisl convallis at. Vivamus eu diam dapibus, tempor lorem in, vestibulum est. Pellentesque venenatis pellentesque dapibus. Donec dapibus ac est a volutpat.

Nulla vel nisi bibendum, scelerisque velit in, auctor magna. In hac habitasse platea dictumst. Cras nec augue vitae odio tincidunt consequat. Vivamus mattis eu magna a commodo. Fusce vel massa quam. Vivamus ligula turpis, dignissim pretium leo non, aliquet euismod tellus. Donec tincidunt convallis diam nec convallis. Vestibulum sed diam euismod ex porttitor imperdiet et non lectus. Pellentesque blandit ex vitae pretium dictum. Mauris eu lorem eu ex auctor eleifend aliquam eget turpis. Aliquam erat volutpat. Proin et sapien a magna mollis pharetra.

Maecenas pulvinar neque risus, nec feugiat elit hendrerit quis. Phasellus ut nibh vitae eros suscipit consectetur. Etiam tristique felis quis metus venenatis sollicitudin. Sed orci lorem, fringilla at finibus eget, vehicula eget ipsum. Etiam egestas feugiat nisi ut lobortis. Maecenas tellus risus, consequat nec pellentesque eget, dictum eu libero. Etiam accumsan risus ac justo pretium, at malesuada urna facilisis. Vestibulum sit amet vulputate diam. Nulla metus dui, ultricies sed dui sed, porttitor mollis erat. Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.

Praesent eget molestie dolor. Nulla pretium cursus ipsum molestie laoreet. Morbi efficitur quis neque sit amet ornare. Pellentesque fringilla sem eu nibh tristique rhoncus. Morbi id eros nec ligula interdum ultricies at tincidunt mi. Mauris ac accumsan ante. Integer sem eros, mollis eu sapien sit amet, facilisis porta arcu.

Aliquam erat volutpat. Suspendisse quis nulla sodales sapien varius ultrices eu at felis. Suspendisse pretium pellentesque leo ac ornare. Nam tristique turpis id neque venenatis ullamcorper. Nulla venenatis, sem a fringilla hendrerit, libero augue venenatis ex, eget consectetur augue urna eu ipsum. Donec faucibus sit amet arcu vitae imperdiet. Suspendisse suscipit ac nunc ultrices tristique. Duis risus risus, tincidunt ut consectetur ac, congue vel sem. Quisque quis erat quis odio mattis aliquet nec ut urna.

Bike For Sales in Paisley UK

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Donec aliquet fringilla metus vitae tincidunt. Nullam porttitor porta ex, quis fringilla elit viverra vel. Pellentesque vitae orci ut mi tincidunt varius. Praesent sed leo tincidunt lacus porttitor laoreet. Proin molestie erat a vestibulum lobortis. Nullam tincidunt elit sem, non fermentum nisl convallis at. Vivamus eu diam dapibus, tempor lorem in, vestibulum est. Pellentesque venenatis pellentesque dapibus. Donec dapibus ac est a volutpat.

Nulla vel nisi bibendum, scelerisque velit in, auctor magna. In hac habitasse platea dictumst. Cras nec augue vitae odio tincidunt consequat. Vivamus mattis eu magna a commodo. Fusce vel massa quam. Vivamus ligula turpis, dignissim pretium leo non, aliquet euismod tellus. Donec tincidunt convallis diam nec convallis. Vestibulum sed diam euismod ex porttitor imperdiet et non lectus. Pellentesque blandit ex vitae pretium dictum. Mauris eu lorem eu ex auctor eleifend aliquam eget turpis. Aliquam erat volutpat. Proin et sapien a magna mollis pharetra.

Maecenas pulvinar neque risus, nec feugiat elit hendrerit quis. Phasellus ut nibh vitae eros suscipit consectetur. Etiam tristique felis quis metus venenatis sollicitudin. Sed orci lorem, fringilla at finibus eget, vehicula eget ipsum. Etiam egestas feugiat nisi ut lobortis. Maecenas tellus risus, consequat nec pellentesque eget, dictum eu libero. Etiam accumsan risus ac justo pretium, at malesuada urna facilisis. Vestibulum sit amet vulputate diam. Nulla metus dui, ultricies sed dui sed, porttitor mollis erat. Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.

Praesent eget molestie dolor. Nulla pretium cursus ipsum molestie laoreet. Morbi efficitur quis neque sit amet ornare. Pellentesque fringilla sem eu nibh tristique rhoncus. Morbi id eros nec ligula interdum ultricies at tincidunt mi. Mauris ac accumsan ante. Integer sem eros, mollis eu sapien sit amet, facilisis porta arcu.

Aliquam erat volutpat. Suspendisse quis nulla sodales sapien varius ultrices eu at felis. Suspendisse pretium pellentesque leo ac ornare. Nam tristique turpis id neque venenatis ullamcorper. Nulla venenatis, sem a fringilla hendrerit, libero augue venenatis ex, eget consectetur augue urna eu ipsum. Donec faucibus sit amet arcu vitae imperdiet. Suspendisse suscipit ac nunc ultrices tristique. Duis risus risus, tincidunt ut consectetur ac, congue vel sem. Quisque quis erat quis odio mattis aliquet nec ut urna.

Photography Services in USA

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Donec non rhoncus augue, quis consequat quam. Etiam risus dolor, tincidunt sit amet finibus a, commodo sit amet est. Maecenas eleifend tortor quis scelerisque posuere. Praesent volutpat id est ut fermentum. Nam aliquet sagittis libero sit amet aliquet. Sed posuere eleifend pretium. Praesent nec risus sit amet mauris consequat malesuada quis vel libero.

Aliquam ornare lorem tellus, sit amet maximus ipsum facilisis nec. Nunc hendrerit quam leo, vel blandit nisi ultrices ut. Proin vitae turpis lorem. Integer mollis massa a nunc sagittis rutrum. Vivamus gravida metus eget eros feugiat, in blandit mi vulputate. Aliquam mattis enim at risus euismod commodo. Proin non ipsum sit amet ipsum pulvinar dignissim eget nec lorem. Etiam cursus dictum molestie. Aenean fringilla semper mauris et feugiat.

Phasellus lacus massa, semper et dui eu, accumsan maximus lectus. Mauris pellentesque risus nec nisl semper, ac aliquam ipsum scelerisque. Vestibulum maximus ipsum vel mattis dapibus. Curabitur elementum, eros id vulputate imperdiet, nisi justo congue tellus, eget interdum erat eros et elit. Curabitur non consequat sapien. Phasellus ultrices, ante eu aliquam laoreet, magna sapien lobortis turpis, et tincidunt metus neque id est. In rutrum scelerisque turpis id bibendum.

Proin est urna, hendrerit eget turpis ut, rhoncus sollicitudin arcu. Vivamus sagittis, ex ut pharetra tristique, enim mauris tempus neque, eu rhoncus lorem quam in justo. Nunc cursus tortor sit amet turpis tincidunt, at laoreet augue hendrerit. Nam sed ante quis sapien pulvinar auctor. Ut quis vehicula dolor. Cras feugiat feugiat fringilla. In efficitur lectus ac ornare mattis. Duis tempor enim et lorem dictum, a pulvinar orci iaculis. Integer lobortis varius ipsum. Mauris non dolor ultricies, placerat velit sed, vulputate leo.